
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ دوارکا ایکسپریس وے کے لیے کاٹے گئے ہزاروں درختوں کے بدلے ’کمپنسیٹری پلانٹیشن‘ کے تحت ڈی ڈی اے کو 2020 میں 1,53,990 درخت لگانے کا کام این ایچ اے آئی نے سونپا تھا، جس کے لیے 87.77 کروڑ روپے کی پیشگی ادائیگی بھی کی گئی تھی۔ جب اس کی جانچ کی گئی تو تقریباً 75,000 درخت ہی پائے گئے۔ اسی طرح یو ای آر-2 پروجیکٹ کے لیے 2021 میں 64,080 درخت لگانے کی ذمہ داری ڈی ڈی اے نے لی تھی، مگر مشترکہ معائنہ میں صرف 24,887 درخت ہی موجود پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی میں بڑھتی آلودگی پر قابو پانے کے سلسلے میں ڈی ڈی اے کی اس طرح کی لاپروائی یا بدعنوانی سامنے آتی ہے تو عوام کی صحت کے تحفظ کی ذمہ داری کون لے گا؟






