
کھڑگے نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ، جس کا ذکر قدیم ادوار میں ملتا ہے اور جسے لوک ماتا اہلیابائی ہولکر نے دوبارہ آباد کروایا تھا، آج تزئین و آرائش کے نام پر ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے کوریڈور کے نام پر چھوٹے بڑے مندروں اور دیوالیوں کو گرایا گیا اور اب قدیم گھاٹوں کی باری آ گئی ہے۔ ان کے بقول حکومت کی سوچ یہ ہے کہ ہر تاریخی وراثت کو مٹا کر اس پر اپنی نیم پلیٹ لگا دی جائے۔
کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا صفائی، مرمت اور خوبصورتی کے کام وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے نہیں ہو سکتے تھے۔ انہوں نے مثال دی کہ کس طرح پارلیمنٹ احاطے میں مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکر سمیت ملک کی عظیم شخصیات کے مجسموں کو بغیر کسی مشورے کے ایک طرف منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح جلیانوالہ باغ میموریل میں تزئین کے نام پر آزادی کے متوالوں کی قربانیوں سے جڑی یادوں کو کمزور کیا گیا۔






