
کیفی اعظمی نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ محض 11 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور مشاعروں میں شرکت بھی کرنے لگے۔ ابتدا میں اکثر لوگوں، حتیٰ کہ ان کے والد کو بھی یہ شبہ رہتا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی غزلیں پڑھتے ہیں۔ ایک مرتبہ والد نے ان کا امتحان لینے کے لیے ایک مصرعہ طرح دیا اور اس پر غزل کہنے کو کہا۔ کیفی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور پوری غزل لکھ ڈالی۔ یہ غزل بعد میں بے حد مقبول ہوئی اور مشہور گلوکارہ بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ اس غزل کا مطلع تھا:
اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
کیفی اعظمی مشاعروں میں نظمیں پڑھنے کے بے حد شوقین تھے۔ اس شوق کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ ایسے مواقع پر وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے، ’’اماں، دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔‘‘ یہ جملہ ان کے اندر چھپے ہوئے عزم اور خود اعتمادی کی واضح علامت تھا۔





