
راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تمل سماج میں ثقافتی شناخت، اظہارِ رائے کی آزادی اور تخلیقی خود مختاری کے سوال پر بحث تیز ہے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے اس معاملے کو محض ایک فلم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تمل زبان، ثقافت اور عوامی جذبات سے جوڑ کر پیش کیا، جس سے ان کے بیان کو خاص سیاسی اور سماجی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ فلم ’جن نائگن‘ کی نمائش سے قبل اس پر پابندی اور نمائش روکنے سے متعلق معاملات سامنے آئے تھے، جس کے بعد یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ مختلف فریقوں کی جانب سے قانونی اپیلیں دائر کی گئیں اور فلم کی ریلیز کو لے کر عدالتی سطح پر بحث ہوئی، جس کے باعث یہ تنازعہ فلمی دنیا سے نکل کر اظہارِ رائے اور ثقافتی آزادی کے وسیع تر سوال سے جڑ گیا۔






