
پرینکا گاندھی نے اس کارروائی کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ان لوگوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے جو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں مزدوروں سے ان کے روزگار کے قانونی حق کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جو اس کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، انہیں دبانے کے لیے تشدد کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں اور این ایس یو آئی کے کئی کارکنوں کو زبردستی حراست میں لیا جا رہا ہے۔ طلبہ مرکز کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس کے تحت منریگا کو نئے ’وکست بھارت روزگار اور آجیویکا مشن (دیہی) ایکٹ‘ سے تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔





