
احتجاج میں شامل ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت پر تحقیقاتی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر ’’امت شاہ کی ای ڈی بمقابلہ بنگال کے عوام‘‘ اور ’’چاہے جتنے حملے کرو، بنگال پھر جیتے گا‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ پولیس کارروائی کے دوران ڈیرک اوبرائن اور مہوا موئترا کو زبردستی پولیس وین میں بٹھایا گیا، جس پر وہاں موجود صحافیوں اور کارکنوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ڈیرک اوبرائن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن تھا اور کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی، اس کے باوجود ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لینا سیاسی دباؤ کا مظہر ہے۔





