
گزشتہ برس دی ہندو کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں مادھو گاڈگل نے مغربی گھاٹ میں بڑھتی ہوئی قدرتی آفات پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آفات ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کا نتیجہ ہیں جو مقامی آبادی پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ کان کنی اور آلودگی پھیلانے والی صنعتیں مقامی برادریوں کی رضامندی کے بغیر قائم کی گئیں، جبکہ تحفظِ ماحول کے اقدامات بھی بالا دستی پر مبنی اور عوام دشمن انداز میں نافذ کیے گئے۔
ماحولیاتی انصاف کے مضبوط حامی مادھو گاڈگل کا ماننا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقے کو اٹھانا پڑے گا۔ ان کی علمی وراثت، تحقیق اور انتباہات آنے والی نسلوں کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتے رہیں گے۔






