
آل محمد اقبال نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت میں سماعت جاری تھی، اس کے باوجود انتظامیہ نے غیر معمولی جلد بازی دکھاتے ہوئے فیصلہ آنے سے قبل ہی انہدامی کارروائی انجام دی، جو نہ صرف عدالتی عمل کی توہین ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت میں معاملہ زیرِ غور تھا تو انتظامیہ کو اس قدر عجلت دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ اعلیٰ افسران نے اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ انہدامی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر کے دلوں میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے تئیں شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔





