
اندور کے ضلع مجسٹریٹ شیوم ورما نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ میں جن جن اموات کی تصدیق ہوئی ہے، ان تمام متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک 15 مرنے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دے دیا گیا ہے، جبکہ باقی تین متاثرین کے اہل خانہ کے بینک کھاتے کھلوائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں بھی جلد از جلد مالی مدد دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی واضح ہدایت ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ہر ممکن مدد فوری طور پر پہنچائی جائے۔
ضلع مجسٹریٹ کے مطابق جن مریضوں کی میڈیکل رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، ان کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور مزید رپورٹس کا انتظار ہے، جس کے بعد اموات کی اصل وجوہات کے بارے میں تصویر مزید واضح ہو سکے گی۔ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ آلودہ پانی میں کون سے جراثیم یا کیمیائی عناصر شامل تھے جن کی وجہ سے یہ جان لیوا صورت حال پیدا ہوئی۔






