
اس سلسلے میں فریق دفاع نے طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو ضمانت کی بنیاد بنایا ہے اور دلیلیں دی ہیں کہ عمر خالد اور شرجیل امام ستمبر 2020 سے زیر حراست ہیں جب کہ معاملہ ابھی الزام طے ہونے کے مرحلے میں ہے۔ استغاثہ کی چارج شیٹ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں دسیوں ہزار صفحات پر مشتمل الیکٹرانک شواہد شامل ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے تسلیم کیا تھا کہ ’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ ‘، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ طویل قید اپنے آپ میں ضمانت کے لیے بنیاد نہیں ہو سکتی، خاص طور پر کیس کے ’خصوصی حقائق اور حالات‘ کے پیش نظر۔ یادرہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے عمر خالد کو اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتوں کی عبوری ضمانت دی تھی۔ عبوری ریلیف کی مدت ختم ہونے کے بعد خالد نے 29 دسمبر کو جیل میں خودسپردگی کردی تھی۔






