
انہوں نے کہا کہ وہاں کی گرام سبھا پہلے ہی واضح طور پر ان منصوبوں کی مخالفت کر چکی ہے، اس کے باوجود حکومت زبردستی ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ رویہ جمہوری اقدار اور مقامی خود اختیاری دونوں کے منافی ہے۔ جے رام رمیش نے اسے ترقی کے نام پر مسلط کی گئی ایک ایسی حکمتِ عملی قرار دیا جس کا فائدہ نہ عوام کو پہنچے گا اور نہ ہی مقامی آبادی کو۔
عوامی صحت کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے منصوبوں کو کیوں فروغ دے رہی ہے جو قدرتی آفات کو بڑھاوا دیتے اور آکسیجن کے قدرتی ذخائر کو ختم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبے موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو مزید تیز کریں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے خطرات میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آسان کاروبار کے نام پر سانس لینے اور باوقار زندگی گزارنے کو کیوں مشکل بنایا جا رہا ہے۔






