ہندوستان کے سامنے عالمی رسوائی اور سفارتی بحران کے خطرے کا اندیشہ…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 28, 2025361 Views


عالمی اخبارات جیسے کہ کویت کے ”عرب ٹائمز“، برطانیہ کے ”دی انڈیپنڈنٹ“ اور ترکی کے ”ٹی آر ٹی ورلڈ“ نے حملوں کے واقعات کی وسیع پیمانے پر کوریج کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ان حملوں کے لیے دائیں بازو کے عناصر کو ذمہ دار مانا جا رہا ہے۔ ان اخباروں نے ایسے واقعات کی سخت مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ تجزیہ کاروں نے عیسائی تقریبات کو درہم برہم کرنے کے واقعات کو فرقہ وارانہ یکجہتی کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ چونکہ کرسمس کی تقریبات عیسائیوں کی مرکزی تقریبات ہیں لہٰذا ان کو نشانہ بنانا غلط ہے۔قومی و عالمی میڈیا نے اس بات کو ہائی لائٹ کیا ہے کہ ان واقعات نے مذہبی رواداری کو لاحق خطرات کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ انھوں نے ان واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی ہیں۔

میڈیا کے مطابق یونائٹڈ کرشچین فورم اور ایوینجیلیکل فریڈم آف انڈیا نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ تبدیلی مذہب کے بنیاد الزامات پر عیسائیوں کی گرفتاری بھی ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت بارہ ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف قانون ہے۔ 2014 میں ایسے 147 واقعات ہوئے تھے۔ یہ واقعات ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتے گئے اور 2024 میں 840 واقعات ہوئے جبکہ 2025 میں نومبر تک 702واقعات ہو چکے تھے۔ ”نیو انڈین“ اخبار کے مطابق کیتھولک بشپ کانفرنس آف انڈیا نے بتایا ہے کہ 2024-25 میں عیسائی مخالف 1500 واقعات رونما ہوئے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...