
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اراولی پہاڑی سلسلہ محض پہاڑ نہیں بلکہ شمالی ہندوستان کے لیے قدرتی ڈھال ہے۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ اراولی تھار ریگستان سے اٹھنے والی ریتلی آندھیوں کو دہلی اور ہریانہ کی سمت بڑھنے سے روکتا ہے، زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور دہلی-این سی آر کی فضا کو صاف رکھنے میں ’گرین لنگس‘ کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کی سماعت نہ صرف قانونی بلکہ ماحولیاتی مستقبل کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔





