
راہل گاندھی نے کہا، ’’منریگا پر ضرب دراصل ریاستوں کے اختیارات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پیسہ ریاستوں سے چھین کر مرکز کے پاس جا رہا ہے، جس سے وفاقی توازن بگڑتا ہے۔ اس کا نقصان براہ راست غریب عوام کو ہوگا، دیہی معیشت کمزور ہوگی اور روزگار کے مواقع محدود ہوں گے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ وسیع مشاورت کے بغیر، براہ راست وزیر اعظم کے دفتر سے لیا گیا، جس سے ’ون مین شو‘ کی سیاست کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔ ان کے بقول، اس طرز حکمرانی میں فائدہ چند بڑے صنعتی گھرانوں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ عام شہریوں کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’اگر حقوق پر مبنی پروگرام کو اس طرح کمزور کیا گیا تو دیہی معیشت کو طویل مدتی نقصان ہوگا۔ یہی وسائل اگر منریگا سے ہٹا کر مخصوص ارب پتیوں کے مفادات کی نذر کیے گئے تو عدم مساوات بڑھے گی، روزگار کے تحفظ میں کمی آئے گی اور پنچایتی ادارے کمزور ہوں گے۔‘‘ راہل گاندھی نے زور دیا کہ کانگریس اس فیصلے کے خلاف ملک گیر جدوجہد کرے گی اور سڑک سے پارلیمنٹ تک آواز بلند کی جائے گی۔






