
’ہزاروں جوابوں سے اچھی ہے میری خاموشی، نہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھی۔‘ یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ منموہن سنگھ کی پوری سیاسی زندگی کا خلاصہ ہے۔ ہندوستانی سیاست میں آج جہاں بلند آواز، تیز جملے اور جارحانہ بیانیہ طاقت کی علامت سمجھے جا رہے ہیں، وہیں منموہن سنگھ نے خاموشی، تحمل اور ادارہ جاتی وقار کو اپنی شناخت بنایا۔
26 ستمبر 1932 کو متحدہ ہندوستان کے پنجاب میں پیدا ہونے والے منموہن سنگھ کا سیاست میں داخلہ کسی عوامی تحریک یا انتخابی مہم کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ وہ ایک ماہرِ معاشیات تھے، جن کی شناخت علمی دیانت، خاموش محنت اور پالیسی سازی کے میدان میں گہری بصیرت سے بنی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عملی سیاست میں آئے بغیر پہلے وزیرِ خزانہ اور بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب تک پہنچے۔






