
تاہم ماحولیاتی ماہرین ان دعوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں پرانے، بڑے اور سایہ دار درختوں کے نقصان کی تلافی صرف پودے لگا کر نہیں کی جا سکتی۔ ایک پودہ درخت بننے میں دہائیاں لگتی ہیں اوراس کا ماحولیاتی تعاون کسی نئے پودے سے فوری پورا نہیں ہو سکتا۔ بھوپال کے نتن سکسینہ نے ان درختوں کی کٹائی کے سلسلے میں این جی ٹی میں عرضی بھی دائر کی تھی لیکن وہ درختوں کی کٹائی کو روک نہیں پائے۔






