مودی حکومت اراولی کی نئی تشریح کیوں اور کس کے فائدے کے لیے کر رہی ہے؟ جئے رام رمیش

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 23, 2025367 Views


جئے رام رمیش کے مطابق حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اراولی کے 1.44 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے میں سے صرف 0.19 فیصد حصہ اس وقت کان کنی کے پٹوں کے تحت ہے لیکن جب اس فیصد کو زمینی حقیقت میں بدلا جائے تو یہ تقریباً 68 ہزار ایکڑ بنتا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے معمولی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصدی اعداد و شمار کے پیچھے اصل پیمانے کو چھپا کر مسئلے کی سنگینی کم دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 1.44 لاکھ مربع کلومیٹر کا عدد خود ہی گمراہ کن ہے، کیونکہ اس میں چار ریاستوں کے 34 اضلاع کا مکمل جغرافیائی رقبہ شامل کر لیا گیا ہے، حالانکہ ان اضلاع کے اندر اراولی کا اصل پھیلاؤ اس سے کہیں محدود ہے۔ اگر صرف حقیقی اراولی خطے کو بنیاد بنایا جائے تو کان کنی کے تحت آنے والا حصہ کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے اور حکومت کا دعویٰ کمزور ثابت ہوتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...