
پولیس کے مطابق یہ سنڈیکیٹ لیپس ہو چکی انشورنس پالیسیوں کی بقایا قسطوں یا میچورٹی رقم کی واپسی کے نام پر لوگوں کو فون کر کے دھوکہ دیتا تھا۔ ملزمان خود کو معتبر اداروں کا نمائندہ ظاہر کرنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا، دہلی ہائی کورٹ، آئی آر ڈی اے اور این پی سی آئی کے جعلی نوٹس اور لوگوز استعمال کرتے تھے، جس سے متاثرین ان کے جھانسے میں آ جاتے تھے۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے مشتبہ بینک کھاتوں میں 20 لاکھ روپے سے زائد کی رقم منجمد کی، جبکہ تقریباً ایک کروڑ روپے کی مجموعی دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا۔ برآمدگی میں 18 موبائل فون، چار ہارڈ ڈرائیوز، دو لیپ ٹاپ، ایک کریٹا کار اور متعدد جعلی دستاویزات شامل ہیں۔






