
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ اگر بغیر درست لائسنس، مقررہ مقدار سے زیادہ ذخیرہ، یا غیر مجاز فروخت و ترسیل پائی جاتی ہے تو ایسے افعال منشیات سے متعلق جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس بنیاد پر عدالت نے گرفتاری پر روک (ارِیسٹ اسٹے) کی تمام درخواستیں بھی خارج کر دیں، جس سے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی راہ ہموار ہو گئی۔
اس معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی مؤثر دلائل کو عدالت نے اہمیت دی۔ سرکاری وکیل نے مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے نظائر پیش کیے جن میں کوڈین ملا سیرپ کے معاملات میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے اطلاق کو درست قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی رکھا گیا کہ کف سیرپ کی آڑ میں منشیات کا غیر قانونی کاروبار چلایا جا رہا ہے، جس کے سماج اور نوجوانوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔






