
اکھلیش یادو کا کہنا تھا کہ بی جے پی براہِ راست این آر سی کی بات نہیں کر پا رہی تھی، اس لیے ایس آئی آر کو بہانہ بنا کر اسی سمت میں قدم بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں این آر سی نافذ ہوا تو شہریوں سے کون کون سے کاغذات طلب کیے جائیں گے؟ ان کے مطابق جو شخص ایک بار ووٹر بن چکا ہے، وہ ہندوستانی شہری ہے، اس کے باوجود شہریت پر سوال کھڑے کرنا جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں ایس آئی آر کے تحت تقریباً 58 لاکھ ووٹروں کے نام کاٹے گئے اور یہ وہی علاقے ہیں جہاں بی جے پی کمزور ہے۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ جہاں جہاں بی جے پی ہارتی ہے، وہیں ووٹ کٹوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔






