
قابلِ ذکر ہے کہ سال 2020 میں جب ان عرضداشتوں کو سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا تو عدالت نے سماعت کے بعد ریاستوں کو نوٹس جاری کیے تھے، تاہم درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کے باوجود ان قوانین پر روک نہیں لگائی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں اتر پردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مذہب تبدیلی کے الزامات کے تحت سیکڑوں مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ دیگر 12 تنظیموں نے بھی ان قوانین کو چیلنج کیا ہے اور سپریم کورٹ تمام عرضداشتوں پر یکجا سماعت کر رہی ہے۔ اب 28 جنوری کو ہونے والی حتمی بحث کو اس معاملے میں فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔






