
یہ قرارداد کانگریس کی ارکان ڈیبورا راس، مارک ویسی اور ہند نژاد رکن راجا کرشن مورتی کی قیادت میں پیش کی گئی ہے۔ ان ارکان کا موقف ہے کہ صدر نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہندوستان سے درآمدات پر پہلے 25 فیصد اور بعد ازاں مزید 25 فیصد ’سیکنڈری ٹیرف‘ نافذ کیا، جس کے نتیجے میں کئی ہندوستانی مصنوعات پر مجموعی ٹیکس 50 فیصد تک پہنچ گیا۔
ڈیبورا راس نے کہا کہ نارتھ کیرولائنا کی معیشت ہندوستان سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی کمپنیوں نے ریاست میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے لائف سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ ریاستی صنعتیں ہر سال بھارت کو کروڑوں ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیرف اس مضبوط معاشی رشتے کو کمزور کر رہے ہیں۔





