
یہ معاملہ اس وقت بھی عدالتی کارروائی کے فعال مرحلے میں ہے اور متعدد گواہان کی گواہی جاری ہے۔ اسی دوران ریاستی حکومت کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کی باضابطہ پیش رفت نے بحث کو ایک نیا رخ دے دیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اتر پردیش حکومت کے محکمہ انصاف-5 (فوجداری) نے 26 اگست 2025 کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں اس مقدمے کو واپس لینے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے بعد 12 ستمبر 2025 کو مشترکہ ڈائریکٹر استغاثہ نے ضلع سرکاری وکیل (فوجداری) کو کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت دی۔
حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 321 کے تحت ریاست کے گورنر نے مقدمہ واپسی کی اجازت دے دی ہے۔ اسی سلسلے میں استغاثہ نے 15 اکتوبر 2025 کو عدالت میں مقدمہ واپس لینے کی باضابطہ درخواست دائر کی تھی۔ چونکہ معاملہ اب بھی گواہی کے مرحلے میں ہے، عدالت نے اس سے قبل 12 نومبر 2025 کو بھی اس پر سماعت کی تھی۔





