
راہل گاندھی کے مطابق کچھ روز قبل ‘جن سنسد‘ میں ببکول کے ملازمین کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور کمپنی کی صورتحال بیان کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ملازمین نے جو حالات بتائے وہ حیران کر دینے والے نہیں بلکہ چونکا دینے والے ہیں۔ ایک سرکاری کمپنی کے کارکن برسوں سے بغیر تنخواہ کے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض اور ادھار پر گزارا کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے یاد دلایا کہ یہی ببکول وہ واحد سرکاری ادارہ ہے جس نے ہندوستان میں پولیو جیسے خطرناک مرض کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ کمپنی نہ صرف کم قیمت میں ویکسین فراہم کرتی رہی بلکہ ملک کے ہر بچے تک اس کی رسائی کو یقینی بنانے میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ 2017 تک منافع میں رہنے والی اس کمپنی کو ’’جان بوجھ کر اور منصوبہ بند طریقے سے خسارے میں دھکیلا گیا تاکہ سرکاری ٹھیکے نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جا سکیں اور پھر انہی کمپنیوں کو بھاری منافع حاصل ہو۔‘‘






