
انہوں نے مزید لکھا کہ دنیا انہیں ایک عظیم اداکار کے طور پر جانتی ہے مگر وہ ان کی زندگی کے وہ پہلو بھی جانتی ہیں جن تک کسی کی رسائی نہیں تھی۔ انہوں نے لکھا، ’’آپ ہر کردار کے لیے جس خاموشی، توجہ اور گہرائی سے تیاری کرتے تھے، وہ حیران کن تھی۔ کبھی کبھی تو میں بھی حیران رہ جاتی تھی کہ آپ اپنے فن میں کس درجے تک کھو جاتے ہیں۔‘‘
سائرہ بانو نے دلیپ صاحب کی سادہ دلی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بڑی آسانی سے اپنی گھڑی، شال یا قلم کسی کو تحفے میں دے دیتے تھے، جیسے ایک بچہ معصومیت سے اپنی پسندیدہ چیزیں بانٹ دیتا ہے۔ اپنے جذباتی نوٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا، ’’کبھی کبھی دل میں ایک سرگوشی سی اٹھتی ہے، ’’خدا سے پوچھوں، کیا ہم اور یوسف ہمیشہ کے لیے نہیں مل سکتے؟‘‘






