
اس معاملے کی سماعت گزشتہ آٹھ برسوں سے جاری تھی۔ دونوں فریقوں کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا اعظم خان کو تمام الزامات سے باعزت بری کیا جاتا ہے۔ فیصلے کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس فورس تعینات رہی۔
فیصلہ آنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے کارکنوں اور اعظم خان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پارٹی کارکنان نے اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی محرکات کے تحت درج مقدمات ایک ایک کر کے عدالتوں میں ٹک نہیں پا رہے۔





