
ذرائع نے کہا کہ حکومت کا یہ اعتراف راہل گاندھی کے ذریعہ اٹھائے گئے مسئلہ کی توثیق کرتا ہے اور تقرریوں میں سماجی انصاف کے ان کے مطالبے کو تقویت دیتا ہے۔ جبکہ راہل گاندھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں یقین دہانیاں ملی ہیں کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، حکومت کی اکثریت اور تقرری کمیٹیوں میں ویٹو پاور کے پیش نظر، سیاسی مبصرین اس بات سے محتاط ہیں کہ حزب اختلاف کے لیڈر کی تجاویز کا حقیقی فیصلوں پر کتنا اثر پڑے گا۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)





