
ایم ایل اے سنجے پاٹھک نے اب تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ اپنی ہی پارٹی کے ایک ایم ایل اے کے خلاف حکومت کی سخت کارروائی نے اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی سرخیاں بٹوری ہیں۔ اب سبھی کی نظریں انتظامیہ کی کارروائی پر مرکوز ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے بلکہ ریاست میں کان کنی کی سرگرمیوں کی نگرانی اور ضوابط پر بھی اس معاملے نے سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔





