
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک 1,51,000 سے زیادہ وقف اثاثے رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں کرناٹک سب سے آگے ہے جہاں 50,800 املاک کا اندراج مکمل ہوا۔ پنجاب، جموں و کشمیر اور چند دیگر ریاستوں نے بھی بہتر پیش رفت دکھائی، جب کہ کئی بڑے صوبے اس عمل میں پیچھے رہ گئے۔
وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے مطابق 6 ماہ کی مہلت ختم ہونے کے بعد اگر کسی شخص کو مزید وقت درکار ہو تو وقف ٹریبونل کے پاس اختیار ہے کہ وہ 6 ماہ تک کی اضافی رعایت دے سکتا ہے۔ رجیجو نے کہا، ’’لہٰذا جنہیں حقیقی دشواریاں ہیں، وہ ٹریبونل سے رجوع کریں۔‘‘
انہوں نے کچھ ریاستی حکومتوں پر عدم تعاون کا شکوہ بھی کیا اور کہا کہ کئی مقامات پر لوگوں تک مناسب آگاہی نہیں پہنچائی گئی۔ وزیر نے اپیل کی کہ صوبائی حکومتیں آئندہ ذمہ داری سے کام کریں تاکہ وقف املاک کے اندراج میں شفافیت آئے اور تنازعات کم ہوں۔






