
یہ احتجاج پنجاب کے 19 اضلاع میں منعقد ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر 26 مقامات ایسے ہیں جہاں ریلوے ٹریفک متاثر ہوگا۔ امرتسر، گورداس پور، پٹھانکوٹ، ترن تارن، فیروز پور، کپورتھلا، جالندھر، ہوشیار پور، پٹیالہ، سنگرور، فاضلکا، موگا، بھٹنڈہ، مکتسر، مالیر کوٹلہ، منسا، لدھیانہ، فرید کوٹ اور روپڑ ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں تحریک کا اثر زیادہ دیکھا جا سکتا ہے۔
کسان مزدور مورچہ نے حکومت کے سامنے یہ مؤقف رکھا ہے کہ حالیہ دنوں میں بجلی اور عوامی خدمات سے متعلق کیے گئے فیصلے کسان اور مزدور طبقے کو مزید مشکلات کی طرف لے جا رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بجلی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ کسانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔





