
آریال نے بتایا کہ حکومت فرار قیدیوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے چکی ہے اور متعدد صوبوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطرناک اور سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، تاہم یہ صورتحال پھر بھی قومی سلامتی کے لیے چیلنج ہے۔
تشدد کے دوران نہ صرف قیدی بھاگے بلکہ اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی لوٹ لیا گیا۔ نیپال پولیس کے مطابق 1200 سے زیادہ رائفلیں اور پستولیں اور تقریباً ایک لاکھ راؤنڈ گولیاں چوری کی گئیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق اب تک 727 اسلحہ کے ٹکڑے برآمد کیے جا چکے ہیں لیکن باقی کی بازیابی حکومت کے لیے اہم ترجیح ہے۔





