
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جب انتخابی فہرستوں سے متعلق اتنے حساس اقدامات کیے جا رہے ہوں، تو اس پر بڑے پیمانے پر گفتگو ناگزیر ہے۔ ’’اگر ہم ایسے بنیادی مسائل پارلیمنٹ میں نہیں اٹھائیں گے، تو انہیں کہاں رکھیں؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پرینکا چترویدی نے کہا کہ اپوزیشن ہر موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سیشن کی مدت اور ایجنڈے کے تناظر میں اپوزیشن کے اہم معاملات کو جگہ دے۔ ’’ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہر مسئلے پر بحث کریں، تو ہمارا بھی کہنا ہے کہ اگر 15 روزہ سیشن میں آپ 10 بل پیش کرتے ہیں تو دو ہمارے معاملات پر بھی بحث ہونی چاہیے۔‘‘






