
اس معاہدے کے تحت دنیا بھر کے ملک آپس میں بیجوں اور ان کے جینیاتی مواد کا تبادلہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب جو نئی تجویز لائی گئی ہے، اسے ’کمپرومائز‘ یعنی سمجھوتہ کہا جا رہا ہے مگر حقیقت میں یہ سمجھوتہ صرف ترقی یافتہ ملکوں اور بڑی زرعی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس تجویز میں ترقی پذیر ممالک کی وہ باتیں شامل ہی نہیں کی گئیں جو وہ کئی سال سے کر رہے ہی، مثلاً بیجوں کے استعمال کے بدلے لازمی مالی فائدہ یا ادائیگی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی برسوں سے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے بیج استعمال کر رہے ہیں لیکن ان بیجوں کے اصل مالک کسانوں کو مناسب فائدہ نہیں ملتا۔ ایسے میں اب بیجوں کے عالمی ذخیرے میں مزید فصلیں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے جنوبی دنیا کے جینیاتی وسائل مزید بڑی کارپوریشنوں کے ہاتھ میں پہنچ سکتے ہیں، جبکہ بدلے میں کچھ بھی یقینی نہیں۔



