
شہر سے ملحقہ فیروز پور گاؤں میں واقع پرانے قلعے کے کھنڈر بھی اب اے ایس آئی کے زیر نگرانی ہیں۔ یہاں حفاظتی چہار دیواری تو بن گئی ہے مگر یہ جگہ بچوں کے کرکٹ کھیلنے اور عام گھریلو کاموں کے لیے اب بھی پہلے جیسی ہے۔ سنبھل کی قدیم پہچان باون سرائے اور چھتیس پورے آج بھی قرب و جوار کی یادداشت میں زندہ ہیں۔ بازاروں میں بے ترتیبی، بھیڑ، اور نیم جدید دکانیں ایک عام ہندوستانی قصبے کی طرح ہی دکھائی دیتی ہیں۔
بابو کے ہوٹل کی اُڑد چاول کی ڈش ہو یا حلیم والے معروف اور ناظم کبابی، یا پھر گرو کی پیڑے کی مٹھائی، یہ سب شہر کے روزمرہ ذائقے کا حصہ ہیں۔ سینگ کے کنگھے بنانے والے آج فائبر اور جدید ڈیزائن بھی بنانے لگے ہیں۔ بازار کے بیرونی علاقوں میں رنگائی دھلائی کے جو کارخانے چلے تھے، وہ اب آلودگی کے سبب بند کر دیے گئے ہیں۔
کلکی مندر کے پجاری مہندر شرما، جو ستر برس کے قریب ہیں، کہتے ہیں، ’’ہمارا ماننا ہے کہ کلکی اوتار سنبھل ہی میں پیدا ہوں گے مگر شہر کی تاریخی اہمیت کو کبھی وہ مقام نہیں ملا جس کا یہ حق دار تھا۔ نہ تعلیم کے مواقع بڑھے اور نہ ترقی کا دائرہ۔ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔‘‘ ان کے مطابق مندر کے سامنے کبھی کچا راستہ تھا، اونٹ گاڑیاں چلتی تھیں، اب سڑک ہے، بس اتنا فرق آیا ہے۔ سنبھل ضلع تو بن گیا مگر کسی افسر سے کام پڑے تو 25 کلومیٹر دور بہجوئی جانا پڑتا ہے۔






