
این آئی اے کے وکیل راہل تیاگی نے بتایا کہ اب تک کی پوچھ گچھ میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن پر پیش رفت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر عدالت نے سات دن کی اضافی تحویل منظور کی۔ ایجنسی نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ انمول بشنوئی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اسی لیے کارروائی این آئی اے کے احاطے میں کی گئی تاکہ غیر معمولی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی ریمانڈ کے دوران انمول بشنوئی نے اپنے نیٹ ورک، سرگرم ساتھیوں، غیر ملکی رابطوں اور مختلف مقامات سے چلنے والی کارروائیوں کے بارے میں کئی معلومات فراہم کی ہیں۔ این آئی اے کو امید ہے کہ اگلے چند دنوں میں مزید اہم سراغ ملیں گے، خاص طور پر اس کے فنڈنگ چین اور بیرونِ ملک سے ملنے والی ہدایات کے بارے میں۔






