
انہوں نے کہا کہ اراولی دہلی، ہریانہ، راجستھان اور گجرات میں پھیلا ہوا ایک طویل پہاڑی سلسلہ ہے جو نہ صرف صدیوں سے قدرتی رکاوٹ کے طور پر کام کرتا ہے بلکہ دھول- خصوصاً تھار اور راجستھان کی سخت اور خشک ہواؤں کو شمال اور مشرق کی سمت میں جانے سے روکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر، زراعت، جنگلاتی حیات اور این سی آر کے ہوا کے معیار کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے مگر گزشتہ برسوں میں کان کنی، تعمیراتی سرگرمیوں اور غیر قانونی تجاوزات نے اسے بری طرح کمزور کر دیا ہے۔
جے رام رمیش کے مطابق حکومت نے یہ کہہ کر نئی تعریف پیش کی ہے کہ اس سے غیر قانونی کان کنی پر قابو پانے میں مدد ملے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی پہاڑی کو اراولی مانا ہی نہیں جائے گا تو اس کی قانونی حفاظت بھی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نئی تعریف کے نتیجے میں اراولی کے بڑے حصے میں کھلی کان کنی، تعمیرات اور زمینی استعمال میں تبدیلی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ نہ صرف ایک ماحولیاتی سانحہ ثابت ہوگا بلکہ عوامی صحت اور روزگار پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔






