
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے تیل تجارت کے نیٹ ورک پر سخت کارروائی کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کی زد میں اس بار ایک ہندوستانی کمپنی اور اس کے دو کاروباری ڈائریکٹر بھی آئے ہیں۔ امریکی ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ اقدام ایران کی اُن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جن کے ذریعے فوج اور اس سے وابستہ گروہوں کو مالی مدد پہنچتی ہے۔
ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) نے متعدد فرنٹ کمپنیوں اور شپنگ فیسلیٹیٹرز کے ایک ایسے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے جو ایرانی خام تیل کی فروخت کے ذریعے ایران کی مسلح افواج کے لیے آمدنی پیدا کرتے تھے۔ امریکی مؤقف کے مطابق اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں پسپائی کے بعد ایران کی فوج اپنے کمزور بجٹ کو سہارا دینے کے لیے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔





