
وزیراعلیٰ اسٹالن نے واضح کیا کہ بھاری بارشوں نے ریاست کے کئی اضلاع میں دھان کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کسان نہ صرف اپنی فصلیں بچانے میں ناکام رہے بلکہ بارش کے سبب کٹی ہوئی فصل میں نمی کی مقدار بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ ایسی صورت میں، ان کے مطابق، اصول میں معمولی نرمی نہ صرف منطقی تھی بلکہ کسانوں کی بقا کے لیے ناگزیر بھی تھی۔
ریاست نے مرکز سے درخواست کی تھی کہ موجودہ نمی کی حد 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دی جائے، جیسا کہ ماضی میں بھی غیر معمولی بارش کے دوران کیا جا چکا ہے۔ اسٹالن نے کہا کہ مرکز نے پہلے ایسے مواقع پر عملی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے ریاست کی بات مانی تھی، اس لیے اس بار انکار سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب مرکزی حکومت پہلے اسی طرح کے حالات میں نرمی دے چکی ہے، تو اب کسانوں کی یہی جائز درخواست کیوں نامنظور کی جا رہی ہے؟‘‘






