
کمپنی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کیس میں کافی بنیادی ثبوت موجود ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نواب ملک نے حسینہ پارکر، سلیم پٹیل اور ڈی کمپنی سے وابستہ ملزم سردار خان کے ساتھ مل کر کرلا میں ایک قیمتی پلاٹ غیر قانونی طور پر حاصل کیا اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس پلاٹ میں جرم کے ذریعہ کمائی گئی رقم 16 کروڑ روپے ہے۔





