
سی اے کیو ایم نے اپنی وضاحت میں کہا کہ کچھ پلیٹ فارمز پر غیر مصدقہ معلومات اس انداز سے پیش کی جا رہی ہیں جن سے شہریوں میں غلط فہمی اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ کمیشن نے شہریوں، اداروں اور مقامی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ آلودگی سے متعلق کسی بھی ہدایت، پابندی یا مرحلے کی تبدیلی کے بارے میں صرف کمیشن کے سرکاری اعلانات، نوٹیفکیشن اور پریس ریلیز پر ہی انحصار کیا جائے۔ کمیشن کے مطابق غیر مستند خبروں کا پھیلاؤ عملی تیاریوں اور انتظامی فیصلوں میں الجھن پیدا کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر عوامی سطح پر ہونے والے اقدامات پر پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ 11 نومبر کو دہلی اور این سی آر کے متعدد اضلاع میں گریپ کا تیسرا مرحلہ نافذ کیا گیا تھا، جو اس وقت استعمال میں لایا جاتا ہے جب فضائی معیار ’سیویئر‘ یعنی شدید آلودہ سطح تک پہنچ جائے۔ تیسرے مرحلے کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں، صنعتی کاموں اور مخصوص زمرے کی گاڑیوں پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تاکہ فضا میں شامل ہونے والے ذرات اور آلودہ مادوں کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔






