
دنیا اس وقت دو ایسے بڑے بحرانوں سے گزر رہی ہے جن کا براہِ راست تعلق عالمی امن، انصاف اور انسانیت کے مستقبل سے ہے۔ ایک طرف عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کا سامنا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے تصور کو کمزور کر رہے ہیں۔ دوسری طرف چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کا بے قابو پھیلاؤ دنیا بھر میں تشدد، دہشت گردی، مسلح تنازعات اور عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے۔ ان دونوں مسائل نے عالمی نظام کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مشترکہ حکمتِ عملی، مضبوط سیاسی عزم اور عملی تعاون کے بغیر پائیدار امن کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی فوجداری عدالت کی سالانہ رپورٹ پر بحث کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالت کے خلاف پابندیاں اور جابرانہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی روح پر حملے کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق آئی سی سی کا قیام اس اصول پر ہوا تھا کہ انصاف ایک عالمی ذمہ داری ہے، اور کوئی جرم، چاہے وہ جنگی ہو یا انسانیت کے خلاف، سزا کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔ مگر آج یہی ادارہ خود جبر اور سیاسی مداخلت کا نشانہ بن رہا ہے۔






