
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ چاروں گروہ یورپ میں مختلف نوعیت کی تشدد آمیز اور مسلح کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، اگرچہ ان کی براہ راست سرگرمیاں امریکہ کے اندر نہیں دیکھی گئیں۔ ان گروہوں میں سب سے نمایاں اطالوی انارکسٹ فرنٹ ہے، جو 2003 میں یورپی کمیشن کے اُس وقت کے صدر رومانو پروڈی کو دھماکہ خیز پارسل بھیجنے کے واقعے میں شامل رہا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف اٹلی بلکہ پورے یورپ میں سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
دوسرا اور تیسرا گروہ یونان میں فعال بتایا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس ایتھنز میں پولیس ہیڈکوارٹر اور وزارتِ محنت کی عمارتوں کے باہر بم نصب کیے تھے۔ اگرچہ ان دھماکوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا تھا، مگر یونانی حکام نے ان کارروائیوں کو ملک کے سیاسی ڈھانچے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی ’منظم کوشش‘ قرار دیا تھا۔ یونان میں بائیں بازو کے ان گروہوں کی سرگرمیاں گزشتہ ایک دہائی میں بتدریج بڑھتی رہی ہیں، اور سکیورٹی ادارے مسلسل ان کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔






