
دہلی میں پیر 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہوئے خوفناک کار دھماکے کے بعد راجدھانی میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس، نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی۔
اس واقعے کے بعد آثار قدیمہ ہند کی نگرانی کرنے والے ادارے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لال قلعہ کو اگلے 3 دنوں کے لیے عام عوام کے داخلے سے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اے ایس آئی کے مطابق اس دوران نہ صرف قلعہ کے اندرونی حصے بلکہ اس کے اطراف کی سکیورٹی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے یا مشتبہ سرگرمی کو روکا جا سکے۔






