
جب کسی معاشرے کے زیادہ تر لوگ یہ یقین کر لیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے، کہ ان کا فریضہ صرف تماشائی بنے رہنا ہے، کہ ان کی واحد ترجیح اپنی ذاتی سلامتی ہے، تو ایسا معاشرہ دراصل بیمار ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ اپنے ضمیر، اپنے احساس اور اپنی عقل سے محروم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ نہ خود کو بچا پاتا ہے، نہ اپنے اردگرد کی انسانیت کو۔
عام تاثر یہ ہے کہ حقیقت صرف ایک ہوتی ہے مگر اسے سمجھنے کے طریقے مختلف۔ لیکن دراصل ہر زاویۂ نظر ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ ادب اور فن میں جو تخلیق ہوتی ہے، وہ صرف موجود حقیقت کا عکس نہیں ہوتی، بلکہ ایک نئی حقیقت کا اضافہ بھی کرتی ہے۔
فنکار اور ادیب اپنی تخیل اور مشاہدے سے وہ حقیقتیں تخلیق کرتے ہیں جو عام آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام میں انسان اور سماج کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جو روایتی علم یا سیاست کے دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔






