
یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہندوستان نے کسی عالمی طاقت کے سامنے اس طرح جھکنے کی روش اپنائی۔ سرد جنگ کے دور میں بھی ہندوستان نے اپنی خودمختاری کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا مگر آج خارجہ پالیسی مکمل طور پر سرمایہ دارانہ دباؤ کے تابع نظر آ رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا گیا، ہتھکڑیاں، زنجیریں اور جبراً ملک بدری، وہ قومی وقار پر بدنما داغ ہے مگر مودی حکومت نے اسے خاموشی سے برداشت کیا، جیسے بے بسی کا کوئی گونگا تماشائی۔
نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی معیشت کی جڑیں اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ کارپوریٹ لوٹ، بڑھتا قرض، گرتی برآمدات، اور مذہبی منافرت — یہ سب ایک ہی منصوبے کا حصہ ہیں: عوام کی توجہ اس جانب سے ہٹانا کہ معیشت خطرے میں ہے۔ جب قوم نعرے لگانے میں مصروف ہو اور اشرافیہ دولت سمیٹنے میں، تو سمجھ لیجئے کہ تباہی قریب ہے۔






