
اس الیکشن پر نہ صرف ہندوستان کی بلکہ پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ بہار کے نتائج نہ صرف اس ریاست کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور ملکی سیاست پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسا کہ بار بار کہا گیا ہے کہ اگر این ڈی اے کی حکومت بنی تو بی جے پی کسی بھی قیمت پر نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ نہیں بننے دے گی۔ وہ اپنے کسی سیاست داں کو اس منصب پر بٹھائے گی۔ اس بات کو نتیش کمار بھی سمجھ رہے ہیں اور اسی لیے وہ صرف اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں بی جے پی امیدواروں کے حق میں نہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان کی پارٹی کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں آئیں تاکہ بی جے پی انھیں وزیر اعلیٰ بنائے رکھنے پر مجبور ہو جائے۔
لیکن اگر خدا نخواستہ بی جے پی کے امیدوار زیادہ کامیاب ہو گئے اور وہ حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی تو پھر نہ صرف بہار کی بلکہ پورے ملک کی سیاست بدل جائے گی۔ اگر نتیش کمار وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو وہ اپنی پسند کی حکومت چلائیں گے اور بی جے پی کے ایجنڈے کو بہت زیادہ لاگو کرنے سے گریز کریں گے۔ نتیش کمار کا خیال ہے کہ اگر ان کی حکومت میں بی جے پی اپنے ایجنڈے کو چلانے میں کامیاب ہو گئی تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔مسلمان بھی ان سے دور ہو جائیں گے اور وہ برادریاں اور طبقات بھی جو جنتا دل یو کو اس کی پالیسیوں کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔





