خود کو برباد کر لینے والا شاعر

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 9, 2025365 Views


زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

۔۔۔۔

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں

آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو

مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغر

سب کے سب تیرے طرفدار نظر آتے ہیں

۔۔۔۔

میں وہ آوارہ تقدیر ہوں کہ یزداں کی قسم

لوگ دیوانہ سمجھ کر جسے سمجھاتے ہیں

۔۔۔۔۔

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راہزن آدمی رہنما آدمی

بارہا بن چکا ہے خدا آدمی

کچھ فرشتوں کی تقدیس کے واسطے

سہ گیا آدمی کی جفا آدمی

۔۔۔۔۔۔

ساغر کی زندگی کا کافی عرصہ خبط الحواسی میں لاہور کی سڑکوں پر گزرا۔ وہ موری دروازے، سرکلر روڈ، داتا دربار، ٹکسالی دروازہ، لوہاری دروازہ، میکلو روڈ اور بادامی باغ میں نگاہیں نیچی کئے چلتے پھرتے دکھائی دیتے تھے یا گندگی کے ڈھیر کے پاس نشے میں دھت سگریٹ پیتے نظر آتے۔ وہ خود فراموشی کی کیفیت میں اپنے آپ سے ہی باتیں کرتے تھے۔ ساغر اکثر و بیشتر میلے کچیلے کپڑوں کے اوپر کالی چادر لپیٹے رکھتے تھے۔ وہ بھی کئی جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ اکثر انہیں اس حلیے میں دیکھ کر بچے ان کے پیچھے چادر والی مائی کہہ کر چلاتے تھے اور وہ گھبرا کر وہاں سے تیز قدموں کے ساتھ نکل جاتے تھے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...