
مکیش سہنی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بہار کے روشن مستقبل اور سماجی انصاف کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ برابری، احترام اور حقوق کی آواز مزید مضبوط ہو۔ مہاگٹھ بندھن متحد ہے اور ہم مل کر بہار میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں۔‘‘
سنتوش سہنی کی دستبرداری کے بعد گورابورام نشست پر اب کل 11 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ بی جے پی نے یہاں سے سوجیت کمار کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جو اب آر جے ڈی کے افضل علی خان کے مدمقابل ہوں گے۔
واضح رہے کہ گورابورام سمیت بہار کی 121 اسمبلی نشستوں پر 6 نومبر کو پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے۔ مہاگٹھ بندھن کی قیادت تیجسوی یادو کر رہے ہیں، جو اس انتخاب کو ’تبدیلی کی لڑائی‘ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب این ڈی اے اتحاد اس مقابلے کو سخت بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک رہا ہے۔





