
عمار کا کلام خود ترسی، خدا ترسی، انسانی نفسیات، زندگی کی حقیقتوں اور شکستہ اقدار کی بحالی پر مبنی ہیں۔ ان کی نظموں کے مرکزی خیالات بھی بہت منفرد ہوتے ہیں۔ انکی نظم کا اختتامیہ بھی چونکانے والا ہوتا ہے۔ ‘زبان دراز’ کے عنوان سے انکی نظم انکے خیالات کی نیرنگی اور قادر الکلامی کی مثال ہے۔
میں اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں
مجھے زبان کی عجیب بیماری ہو گئی ہے
سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں
میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہو گئی ہے
زبان میں فی لفظ ایک انچ اضافہ ہو رہا ہے
پہلے بھی تو یہ کاندھوں پر پڑی تھی
تمہیں میری مشکل کا اندازہ ہو رہا ہے
تم جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں
آخری تکرار کے بعد میں نے زبان سمیٹ لی ہے
اب میں ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوں گا
کھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہے
دعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوں گا
ہر پسلی دوسری پسلی میں دھنستی جا رہی ہے
میری زبان میرے بدن پر کستی جا رہی ہے۔
انکی غزل سے نظم تک، ہر جہت میں رنگ و رس کی ہوس نظر آتی ہے۔عمار اقبال کی غزلوں اور نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام’ پرندگی’کے عنوان سے اور نظموں کا مجموعہ ‘منجھ روپ’ کے نام سے شائع ہوا۔ انکے شعری مجموعات نے انہیں نئی نسل کا محبوب اور پسندیدہ شاعر بنا دیا۔انکی نثری نظموں کے مجموعے ‘پرونوٹ’ نے ابھرتے ہوئے شعرا کے زوق شعر گوئی کو مہمیز کیا۔عمار اقبال کا بڑا اہم ادبی کارنامہ کافکا، لیونورا کیریگٹن اور البرٹ کامیوں کے شاہکاروں سے اردو قارئین کو روشناس کرانا ہے۔





