
قدرت نے اس کارخانہ عالم کو چلانے کے لیے ایک نظام بنایا ہے۔ انسانی آبادی کے ذریعے اپنی ضرورتوں اور مفادات کے پیش نظر اس نظام سے چھیڑ چھاڑ کا تباہ کن نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ لیکن قدرت نے بنی نوع انسان کو ایک ایسا دماغ دیا ہے جس کا اگر وہ مثبت استعمال کرے تو اس سے انسانیت کی بھلائی ہوتی ہے لیکن اگر منفی استعمال کرے تو اس کے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ دماغ کے مثبت استعمال سے قدرتی نظام میں تبدیلی سے پیدا ہونے والے نامساعد حالات سے کامیابی کے ساتھ نمٹا بھی جا سکتا ہے۔ قدرت کے نظام میں موسموں کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس نے سردی، گرمی اور برسات کے موسم بنائے ہیں۔ لیکن حالیہ کچھ عشروں سے موسم میں ناقابل یقین حد تک تبدیلی رونما ہونے لگی ہے۔ موسم آگے پیچھے ہو رہا ہے اور اس کے روایتی اوقات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔
دنیا میں تیزی سے بڑھتی آبادی، انسانی ضرورتوں کے پیش نظر آمد و رفت کے لیے گاڑیوں کی ایجاد اور ان میں استعمال ہونے والے ایندھن سے بھی موسم متاثر ہو رہا ہے۔ سب سے واضح تبدیلی بارشوں کے اپنے وقت پر نہ ہونے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پیدا ہونے والی کثافت یا آلودگی کی شکل میں نظر آتی ہے۔ فضائی آلودگی کے صحت پر بہت مضر اثرات پڑتے ہیں اور شیر خوار بچوں سے لے کر معمر افراد تک میں مختلف قسم کے امراض جنم لینے لگتے ہیں۔ آلودگی کے خاتمے کے لیے انسانوں نے جہاں بہت سے طریقے اختیار کیے ہیں وہیں ایک طریقہ مصنوعی بارش کا بھی ہے۔ بارش ہونے سے آلودگی ختم یا کم ہو جاتی ہے جس کا صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔






